Shab E Barat Kya Hai

Shab E Barat Kya Hai – Islamic Blog

[ad_1]

شب برات – گنہوں سے توبہ کرنے والی رات

شب برات گناہوں فی ندامت اور دعاؤں کی قابلیات کی قیمتی لمت

قرآن مجید میں ارشاد باری تعالیٰ ہے: ’’کیا رات میں اس کی حکمت والا کام ہمارا (اللہ تعالیٰ کے) سمنے پیش ہو کر یہ کیا جاتا ہے‘‘۔ (سورہ دخان)

شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتا ہے کہ رات خداوند کریم کی جنب سے ننگے کاموں کے فیصل ہوتے ہیں اور باز مفسرین کے مطبق ہے رات سے مراد ماہ شعبان کی پندرھویں (5ویں) رات ہے جو عرفے مین “شب برات” کے نام سے مشور ہے۔ کیا رات کے کائی نام ہیں:

1: لیلۃ البرہ یانی دوزخ سے نجات کی رات

2: لیلۃ الصاق یانی دستویز والی رات

3: لیلۃ المبارکہ یانی برکتون والی رات

شب برات کے متلق یہ بات وجیہہ ہونا چاہئیے کی فضیلت رمضان المبارک کی شب قدر سے کام ہے، لکھنے کی فضیلت سے انکار کرنا بلکل پرکھ ہے جیسے سورج کی مجےدیگی میں ہے۔

شب برات کی فضیلت احدی مبارک کی روشنی میں:

روات ک مطبق اللہ تعالا شعبان کی پندروین (15ویں) آسمان دنیا فی نزول فارمتا ہے اور قبلہ بانوکلب کی بکریوں کے بالوں کی تداد سے زیاد گنہ گارون کی بخشش فارمتا ہے، (ترمذی مبعضی،) رات اتی ہا سے اللہ تعالیٰ کی تراف سے ایک عین کرنے والا یہ سب کچھ کرتا ہے، ہے کوئی بخشش کا طالب علم کے اہم مضمون بخشش دون، ہے کوئی سوال کرنے والا میں کا سوال پورا کرو (بیہقی)۔

شب برات سے متلق ہم سرکار دو عالم (ص) کا ارشاد گرامی بھی ملتا ہے

“مجھے جبرائیل نے آکر یہ بشارت سنائی کے یہ شعبان کی پندھرواں (15ویں) رات ہے۔ کیا رات اللہ طلحہ بنوقلب کی بکریوں (بکریاں) کے بالون کے برابر لوگون کو دوزخ سے آزاد فارمتا ہے”۔ شب برات میں کیا ہوتا ہے۔ حدیث کی مشور کتاب بیہقی کی رویت کے مطبق سرکار دو عالم (ص) نی سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کو مختیب کر کے فارمایا “کیا تمھین مظلوم ہے کے شعبان کی رات میں کیا ہوتا ہے؟

آپ (ص) نے فارمایا: “کیا رات میں ہے سال جتنے پیڈا ہونے والے ہیں والے ہیں وو صاب (یانی کے متلق حکم) لکھ دیے جاتے ہیں اور جیتنے سال مرنے والے ہیں، وو سب بھی ہے رات لکھ دیے جاتے ہیں اور ایسی رات میں تمم بندون کے (سال بھر کے) عام اوتھے جاتے ہیں اور رات میں لوگون کی روزی اترتی ہے۔ عام اوٹھے جانے کا مطلب یہ ہے کے عامل دربار خداوانی میں پاش ہوتے ہیں اور روزی اتارنے کا مطلب یہ ہے کہ ایک سال جیتنی روزی انسان کو ملنے والی ہے، وو سب لکھ دی جاتی ہے۔

ایک رویت میں آتا ہے کے ہے ماہی کی پنڈھیرویں (15ویں) رات میں ملک الموت کو ایک رجسٹر دیا جاتا ہے، اور حکم دیا جاتا ہے کے پوری سال میں مرنے والوں کے نام ہے رجسٹر میں لکھ دو، چونچا کوئی آدمی ہے باری کرتا ہے، کوئی نیک کرتا ہے، کوئی کوٹھی اور بلڈنگ بنے میں مشغول ہوتا ہے، مگر یہ ہے کو یہ مالوم نہیں ہوتا کے میرا نام مارنے والوں کی فہرست میں لکھا گیا ہے۔

سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کا فرمان: حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا فرمان ہے کہ اللہ تعالیٰ شعبان کی پندرھویں رات کو آسان دنیا پر نازل فارمتا ہے اور ہر گنہگار کی مغفرت فارم دیتا ہے، مگر مشرک کی بخشش نہیں ہوتی۔ اللہ تبارک وتعالیٰ ان لوگون کو نہیں بخشتا، کینا اور امداد اور ایک دسرون کی دشمنی بڑی ہوتی ہے۔(سنن بیہقی)

سیدنا حضرت علی رضی اللہ عنہ کا عمل:-

سیدنا حضرت علی رضی اللہ عنہ کے مطالق ہے کہ وو یا ہے رات میں بار بار گھر سے باہر نکل کر آسمان کی تراف نگاہ اٹھا کر دیکھتے ہیں یا پھر فارمتے کے حضرت داؤد علیہ السلام بھی ہے رات مین گدا ہے بار بار نکلے ہیں آسمان کی تراف دیکھا کرتا ہے یا فارمایا کرتا ہے۔

“یہ ایسی گھڑی (وقت) ہے کا جو میں اللہ تعالیٰ سے دعا مانگتا ہے، اللہ تعالیٰ اس سے قبل فارمتا ہے”

اور جو اس سے بخشش مانتا ہے، وو اسے بخش دیتا ہے، بشرطیکے مانگنے والا (ظلم سے) ٹیکس نا اصل کرتا ہو،

یا جادوگر نہ ہو، یا نجوم کی باتوں نہ بلتا ہو، یا جلاد یا پھل نکلنے والا نہ ہو یا جوا کلنے والا یا بجا بجانے والا نہ ہو۔” (ابن ماجہ)

شب برات کی کچھ خوشی:

شب برات کی احادیث میں جو خوشیاں بیان کی گئی ہیں، وو یہ ہیں:

1: غروبِ آفتاب کے بعد سے تولو سبحان صادق تک حق طلحہ کے خصوسی تجلیات اور انوار کی مسلّل باریش یا آسمانی دنیا کی شرح اللہ تعالیٰ کا نزول۔

2: اللہ تعالٰی کے اپنے بندو فی خوشوسی رحمت یا ساری رات فرشتوں کے زری گنہگاروں کی تلبۃ المغفرت، بیمارون

کو طالبِ عافیت و صحت، حجت مندون کو اپنی حجت غریبی ہونے کے لیے دعا مانگنے کی دعوت۔

3: بیمارون، گنہگارون اور حجت مندون وگھیرا کے لیے قابویاتِ تعلیم کی بشارت۔

4: گنہگاروں کو اپنی گنہوں سے سچی توبہ کرنا فی جنت کی بشارت اور دزخ سے نجات کا پروانہ

5: ایک سال کے اندر مرنے والے، ادا ہونے والے، حج کرنے والے لوگوں کے متلق فیصلوں والے، سفر کے لیے دیا جاتا ہے

شب برات (15 شعبان) کے روزے کا حکم:- اگرچہ 15 شعبان کا روزا فرض یا واجب نہیں، بلکے نفل ہے، مگر یہ کا بارہ ہے اگر اوصاب ہے۔ سیدنا حضرت علی رضی اللہ عنہ سے رویت ہے کے آپ (ص) نے ارشاد فرما یا: جب شعبان کی پندھریون رات آئے تو رات کو قیام کرو اور (اگلے) دن کا روزا رکھو۔

شب برات مین قبرستان جانے کا حکم:- سرکار دو عالم (ص) سے شب برات میں قبرستان جان سبیت ہے، لیکین وو بھی بلکل اکلے خاموشی سے، ہے موکے فی قبرستان مین محز گمنے پھرنے کے لیے جانا، میلہ لگانا یا خلافت کام کرنا۔ مناصب نہیں

کیا رات کن عام سے بچنا زروری ہے؟ : شب برأت جو کے باری فضلات والی رات ہے، کیا مین اکسر حضرت لا علمی میں خرافات کے مرتکب ہوتے ہیں، خوشنما بچے بارون کی سرپرستی میں آتش بازی کرتے ہیں، یہ بوہت بارہ گنہ ہے، خوش قسمتی ہے ہونا اسی ترہن پیسہ کا زیا کرنا جو اسراف ہے اور قرآن مین پرکھ لوگون کو شیتن کا بھائی کہنا ہے۔ کیا ترہان باز لاگ ٹولیوں کی سورت میں گپ شپ کرتے ہیں، غیبت اور گنہ کے مرتکب ہوتے ہیں، کیا سے بچنا بھی بوہت زروری ہے۔

بزم حضرت رات ٹین (3)، چار (4) باجے تک جگتے ہیں پھر تو جاتے ہیں اور فجر کی نماز نہیں پرہتے، یہ بھی سکت گنہ ہے۔ حدیس مین ہے کہ اگیر بندہ عشا کی نماز جماعت سے پرہے اور فجر کی نماز پرہے اور درمیاں میں کوئی گنہ کا کام نہ کرے اور سو جائے تو اس کی ساری رات عبادت میں شومر ہوتی ہے۔

آئیے مبارک رات میں عہد (وعدہ) کرین کے آیندہ کوئی گنہ کا کام نہ کریں گے، کسی کی حق تلفی نہ کریں گے، اپنی بات سے بھلائی اور دین کا کام کریں گے اور یہ ہے رات میں حسب استطاعت، ذکر، اذکار، صلاۃ التسبیح اور نوافل وغیرہ کا احتمام کریں گے اور ساتھ ہی امت مسلمہ کے لیے خسیسی دعائیں کرنے کے اللہ کی رحمت ہماری تراف متوجہ اور آج مسلمان جس مشکل سورت سے دو۔ ہیں خاتمہ ہو (آمین)

آفرین شیخ ہندوستان، کولکتہ سے ایک سافٹ ویئر انجینئرنگ گریجویٹ ہے میں پیشہ ور بلاگر ہوں اسلام کے بارے میں بلاگ بنانا اور لکھنا پسند کرتی ہیں۔

آفرین شیخ کی تازہ ترین پوسٹس (تمام دیکھیں)

[ad_2]

Source link

Related Posts

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *