Mawla E Kaynat Imam Ali

Ameer al Momineen Sayyiduna Ali al Murtuda Radi Allahu Ta ala Anhu

مولا کائنات امام علیاس کی پیدائش: امیر المومنین سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کی ولادت جمعہ کے دن ہوئی۔ بعض روایات میں اس تاریخ کو 13 محرم اور بعض میں 13 رجب بتایا گیا ہے۔ اس کی پیدائش فیل کے واقعہ کے 30 سال بعد ہوئی۔ وہ خانہ کعبہ کے اندر پیدا ہوئے اور ان سے پہلے کسی کو یہ فضیلت نصیب نہیں ہوئی۔ [Noor al-Absaar].

مبارک NAME: ان کا نام علی ہے اور ابو الحسن اور ابو تراب کے نام سے مشہور ہیں اور ان کے لقب مرتضیٰ، اسد اللہ اور حیدر کرار ہیں۔

اس کی بہادری: حضرت امام محمد غزالی رضی اللہ عنہ لکھتے ہیں۔ احیاء العلوم کہ ہجرت کی رات جب حضرت علی رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بستر مبارک پر سوئے ہوئے تھے تو اللہ تعالیٰ نے حضرت جبرائیل علیہ السلام اور حضرت میکائیل علیہ السلام کو وحی بھیجی۔ ’’میں نے تم دونوں کو ایک دوسرے کا بھائی بنایا ہے اور تم میں سے ایک کی عمر دوسرے کی عمر سے زیادہ کر دی ہے۔ کیا تم میں سے کوئی ہے جو تمہاری عمر کا کچھ حصہ دوسرے کو دے؟

ان دونوں کی طرف سے کسی نے جواب نہیں دیا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ تم دونوں کی مثال علی رضی اللہ عنہ کی نہیں ہے۔ میں نے اسے اپنے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا بھائی بنایا ہے۔ دیکھو وہ اپنے بھائی کے بستر پر سو رہا ہے اور اس کے لیے اپنی جان قربان کرنے کو تیار ہے۔ تم دونوں زمین پر جاؤ اور اسے اس کے دشمنوں سے بچاؤ۔ حضرت جبرائیل علیہ السلام اترے اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کے سرہانے کھڑے ہو گئے اور حضرت میکائیل علیہ السلام رات بھر ان کی حفاظت کرتے رہے۔ اسی پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی کہ ’’کوئی شخص اللہ کی رضا کے لیے اپنی جان بیچ دیتا ہے اور اللہ اپنے بندوں پر بڑا مہربان ہے۔‘‘ (سورہ بقرہ) [Kashful Mahjoob, Page 260]

حضرت ابو رافع رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ خیبر کی جنگ میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی ڈھال کو نقصان پہنچا۔ وہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت میں آگے بڑھے اور اپنے ننگے ہاتھوں سے قلعہ خیبر کے دروازے کو اکھاڑ پھینکا اور اسے شیشے کے طور پر استعمال کیا۔ جنگ کے بعد چالیس مضبوط آدمی مل کر وہ دروازہ نہ ہل سکے جہاں سے حضرت علی رضی اللہ عنہ نے رکھا تھا۔ [Zarkani, Vol 2, Page 230 – Taareekh al-Khulafa, Page 33]

اس کی مہربانی اور سخاوت: وہ بہت ہی مہربان اور فیاض شخصیت تھے۔ اس نے کبھی کسی کو تکلیف نہیں دی۔ یہاں تک کہ اگر کسی سے کوئی غلطی سرزد ہو جاتی تو بڑی مہربانی اور محبت سے اسے سمجھایا۔ حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ بڑے برگزیدہ، بہادر، سچے، نرم دل اور شفیق تھے۔ غریبوں کی مدد کرنے کی خواہش اس کے اندر سمندر کی بڑی موجوں کی طرح بہہ رہی تھی۔ وہ بیماروں، بوڑھوں، غریبوں، یتیموں، معذوروں اور پسماندہوں کی مدد کے لیے گھر سے بہت دور جایا کرتے تھے۔

HIS VAST علم: حضرت علی رضی اللہ عنہ نے بارگاہ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم سے عظیم علم حاصل کیا۔ حضرت ابو عمر رضی اللہ عنہ ابو طفیل سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ قرآن میں سے جو چاہو مجھ سے پوچھو۔ کوئی آیت ایسی نہیں جس سے میں واقف نہ ہوں۔ میں یہ بھی جانتا ہوں کہ یہ دن میں نازل ہوا تھا یا رات، یا یہ ہماری پہاڑی زمین پر نازل ہوا تھا۔ [Jaami’ al-Manaqib]

حضرت علی رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پانچ سو چھیاسی احادیث روایت کی ہیں۔ آپ کا علم، حکمت اور فیصلے اس قدر عظیم تھے کہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ تمام صحابہ کرام میں سب سے بہتر قاضی حضرت علی رضی اللہ عنہ ہیں۔

حضرت سعید بن حبیب رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ مدینہ منورہ میں حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے سوا کوئی ایسا شخص نہ تھا جو یہ کہہ سکتا ہو کہ جو کچھ جاننا ہو مجھ سے پوچھو۔

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بھی بڑے علم کے مالک تھے لیکن وہ بھی کھلم کھلا یہ اعلان فرماتے تھے کہ ”فرائد کا علم علی رضی اللہ عنہ سے زیادہ کسی کو نہیں ہے اور نہ کوئی۔ اس سے زیادہ سمجھدار ہے۔” حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اگر میں سورہ فتح کی تفسیر مرتب کرنا چاہوں تو (اس تفسیر سے) چالیس اونٹ کتابوں سے لادوں۔

اس کی شاعری: فصاحت و بلاغت میں اہل عرب کے برابر کوئی نہیں ہو سکتا۔ وہ نثر کی خوبصورت اشعار کو فوری طور پر پیش کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ بھی بہت بڑے شاعر تھے۔ انہوں نے اللہ کی حمد و ثنا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعریف میں بہت سے اشعار لکھے جو تاریخ اور سیرت کی کتابوں میں ملتے ہیں۔ فیض حاصل کرنے کے لیے ان کے اشعار کے چند اشعار پیش کیے جا رہے ہیں۔

ردینہ قسمتل جباری فینا
لنا علم و لل جوہالی مالو

“ہم اس پر راضی ہیں جو ہمارے رب نے تقسیم کیا ہے۔
کہ اس نے مجھے علم سے نوازا اور جاہلوں کو مال سے۔”

لَی اَنَّلَ مَا لَیْفِنی عَنْقرِیْبَن
و اناللما یبقاء لا یزال

“کیونکہ بہت جلد دولت کم ہو جائے گی اور ختم ہو جائے گی۔
اور علم باقی رہے گا کیونکہ اس کی کوئی انتہا نہیں ہے۔

محبت حضرت علی کے لیے: محدثین نے نقل کیا ہے کہ حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے بارے میں یہ الفاظ ارشاد فرمائے کہ آپ کو حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے خاص لگاؤ ​​ہے۔ یہودی آپ سے اس قدر نفرت کرتے تھے کہ آپ کی پاکیزہ والدہ بی بی مریم رضی اللہ عنہا پر الزام لگاتے تھے اور عیسائی آپ کی محبت میں اس حد تک حد سے گزر گئے تھے کہ (اللہ نہ کرے) آپ کو بیٹا کہنے لگے۔ اللہ خبردار کیونکہ تمہارے معاملے میں بھی دو گروہ ہوں گے۔ ایک وہ لوگ ہوں گے جو آپ کی محبت میں آپ کو اس قدر عزت دیں گے کہ حدود سے تجاوز کریں گے اور دوسرا گروہ وہ ہو گا جو آپ کو ناپسند کریں گے اور آپ کو اپنے الزامات کا نشانہ بنائیں گے۔‘‘

ان مبارک کلمات سے معلوم ہوتا ہے کہ خارجی اور شیعہ دونوں گمراہ ہیں اور صحیح اہل سنت والجماعت ہیں جو سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے بے پناہ محبت کرتے ہیں اور پھر بھی ہم۔ حدود سے تجاوز نہ کرو.

اس کا فائنل مشورہ: وصال سے پہلے اس نے امام حسن اور امام حسین رضی اللہ عنہما کو بلایا اور کہا کہ میں تمہیں نصیحت کرتا ہوں کہ تقویٰ اختیار کرو اور دنیا کی تمنا نہ کرو خواہ وہ تمہارے لیے چاہے۔ اور اگر تم سے کوئی دنیاوی چیز کھو جائے تو اس پر رونا مت۔ یتیموں پر رحم کرو اور کمزوروں کی مدد کرو۔‘‘ اس کے بعد وہ اپنے ایک بیٹے حضرت محمد بن حنفیہ رضی اللہ عنہ کی طرف متوجہ ہوئے اور انہیں بھی یہی مشورہ دیا۔ اس کے بعد اس نے کلمہ پڑھا اور اس کی روح اس فانی دنیا سے آخرت کی بلندیوں تک چلی گئی۔ انا للہ و انا الیہ راجعون!!

غسل اور کافان: حضرت امام حسن، امام حسین اور عبداللہ ابن جعفر (رضی اللہ عنہم اجمعین) نے آپ کو غسل دیا اور آپ کا کفن باندھا جو کہ کپڑے کے تین ٹکڑے تھے۔ حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ نے نماز جنازہ پڑھائی۔ [Taareekh al-Khulafa]

The AQIDA اہل السنۃ والجماعۃ

سیدنا گاؤتھ الاعظام شیخ عبدالقادر جیلانی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اہل سنت و الجماعت کا عقیدہ یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت تمام امتوں سے افضل ہے۔ اور امت میں سے سب سے بڑے اشعار المبشرہ ہیں۔ یہ دس شخصیات ہیں، یعنی ابوبکر، عمر، عثمان، علی، طلحہ، زبیر، عبدالرحمٰن بن عوف، سعد، سعید اور ابو عبیدہ الجراح (رضوان اللہ علیہم اجمعین)۔ ان دس میں سے سب سے بلند خلفائے راشدین ہیں۔ ان چاروں میں سے سب سے افضل ابوبکر صدیق، پھر عمر فاروق، پھر عثمان الثانی اور پھر علی المرتضیٰ ہیں۔” (رضوان اللہ علیہم اجمعین)

———
سے نکالا ہے۔
تذکرہ مشائخ قادریہ برکاتیہ رضویہ

Asl E Nasl E Safaa Wajhe Wasle Khuda
باب الفصل ولایت پہ لاخو(ن) سلام

مرتضیٰ شیرے حق اشجع العاشجی
ساقی ای شیرو شربت پہ لاخو(ن) سلام

~ اعلیٰ حضرتامام احمد رضا خان رحمہ اللہ

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

Related Posts

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *